ابنا: اسلامی جمہوریہ ایران کی وزارت خارجہ کے ترجمان سید عباس عراقچی نے فرانسیسی وزیر خارجہ کے ایران مخالف بے بنیاد الزامات کےخلاف رد عمل ظاہر کیا ہے۔ سید عباس عراقچی نے این پی ٹی معاہدے کے دائرہ کار میں ایران اور ایٹمی توانائي کی عالمی ایجنسی آئی اے ای اے کے قریبی تعاون کی جانب اشارہ کرتے ہوئے ایران کے ایٹمی پروگرام کے غیر شفاف ہونے پر مبنی فرانسیسی وزیر خارجہ کے دعوے کو مسترد کردیا ہے۔فرانسیسی وزیر خارجہ نے اس سے قبل بھی ایران پر یہ بے بنیاد الزام عائد کیا تھاکہ وہ اپنا ایٹمی پروگرام خفیہ رکھ رہا ہے، اسے بین الاقوامی معاہدوں کی پابندی کرنی چاہۓ اور اس سلسلے میں واضح اقدامات انجام دینے چاہئيں۔ فرانسیسی وزیر خارجہ کی جانب سے ایران پر ایٹمی پروگرام خفیہ طور پر جاری رکھنے اور شفافیت کا مظاہرہ نہ کرنے کا الزام درحقیقت انہی ہی بے بنیاد دعووں کی تکرار ہے جو صیہونی حکام کے ساتھ یورپی حکام کی ملاقاتوں کے دوران عام طور پر لگائے جاتے ہیں اور ایسا کرنا یورپی حکام کی عادت بن چکی ہے۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب امریکہ اور فرانس سمیت اس کے یورپی اتحادی اچھی طرح جانتے ہیں کہ ایران ایٹم بم بنانے کے لۓ کوشاں نہیں ہے لیکن یہ ممالک اس حقیقت کا اعتراف کرنے پر تیار نہیں ہیں۔ فرانس اور اسرائیل کے دیرینہ اور پیچیدہ تعلقات نیز امریکہ کی ایران مخالف پالیسیوں کے سلسلے میں اس کے ساتھ فرانس کے ہم آہنگ ہونے کے پیش نظر فرانسیسی وزیر خارجہ کے ایران مخالف بیانات کوئي نئي چیز نہیں ہیں۔امریکی حکام اور ان کے یورپی اتحادی اس بے بنیاد دعوے کے ساتھ کہ ممکن ہےکہ ایران ایٹمی ہتھیار بنانے کے درپے ہو عالمی برادری کے سامنے ایران کی ایٹمی سرگرمیوں کی غلط تصویر پیش کرنے کے درپے ہیں۔ یہ ایسی حالت میں ہے کہ جب ایران کے ایٹمی حقوق کی نفی اور این پی ٹی معاہدے کی شق نمبر چار اور چھ سمیت اس معاہدے کی شقوں کے نظر انداز کۓ جانے سے نہ صرف مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ یہ چیز این پی ٹی معاہدے کے کمزور ہونے کا سبب بنے گي۔ این پی ٹی معاہدہ گیارہ شقوں پر مشتمل ہے۔ اس کی چوتھی شق کے مطابق تمام ممالک کو پرامن ایٹمی سرگرمیوں کا حق حاصل ہے۔ اور چھٹی شق میں کہا گيا ہے کہ جن ممالک کے پاس ایٹمی ہتھیار موجود ہیں ان پر لازم ہے کہ وہ ایٹمی ترک اسلحہ کا راستہ ہموار کریں۔ اسلامی جمہوریہ ایران نے این پی ٹی معاہدے پر دستخط کۓ ہیں اور وہ ایٹمی توانائي کی عالمی ایجنسی کے قوانین کا پابند ہے اس لۓ این پی ٹی معاہدے کے تحت یورینیئم کی افزودگی پر مبنی اس کا حق تسلیم کیا جانا چاہۓ جبکہ فرانسیسی وزیر خارجہ کے بیانات سے اس بات کی نشاندہی ہوتی ہے کہ یورپ مسلسل حقائق کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے اور دوسروں پر اپنے نظریات مسلط کرنے کی پالیسی پر اصرار کر رہا ہے اور یہ رویہ عدم اعتمادی میں شدت پیدا کرنے کے علاوہ باہمی تعاون کے مواقع کے ضائع ہونے کا سبب بنے گا۔
.......
/169